Main Site aawsat.com/urdu

محمد ابن سلمان برطانیہ کے استثنائی دورہ پر - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 7 مارچ, 2018
0

محمد ابن سلمان برطانیہ کے استثنائی دورہ پر

سیسی کے ساتھ ازہر کی افتتاحی تجدیدات کے بعد مصر کا دورہ اختتام پذیر ہوا اور لندن میں ملاقاتوں کا سلسلہ

لندن ـ قاہرة: "الشرق الاوسط”

        سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد ابن سلمان لندن کے دورہ پر گزشتہ رات پہنچ چکے ہیں اور برطانیہ نے اس دورہ کو ایک استثنائی شکل دی ہے خواہ پروٹوکول کے اعتبار سے ہو یا اس دورہ میں بلند پایہ ملاقات کے اعتبار سے ہو اور اس کے علاوہ میڈیاء کی طرف سے بھی ان کے اس دورہ کا کافی اہتام کیا گیا ہے۔

        کل سعودی عرب کے ولی عہد کا تین روزہ مصری دورہ اختتام پذیر ہوا جس میں انہوں نے مصری صدر عبد الفتاح کے ساتھ مل کر قاہرہ میں جامع ازہر میں کی جانے ولی تجدید کا افتتاح کیا۔)۔۔۔(

        برطانیہ کے دورہ میں ملکہ دوم الیزا بیتھ کے ساتھ دوپہر کے کھانا کا انتظام ہے اور شام میں برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چالرس اور اور ان کے صاحبزادہ ویلیم کے ساتھ کھانے کا انتظام ہے اور اسی طرح برطانیہ کے سیکورٹی ادارہ کے رہنماؤں کے ساتھ بھی ملاقات ہوگی اور اس کے علاوہ سلامتی کونسل کمیٹی کے اجلاس میں بھی شرکت ہوگی۔)۔۔۔(

بدھ – 19 جمادی الاول 1440 ہجری – 07 مارچ 2018ء  شمارہ نمبر: (14344)

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>