Main Site aawsat.com/urdu

لیبیا میں سیاسی کاروائی کو لندن کانفرنس کی مدد حاصل - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 15 ستمبر, 2017
0

لیبیا میں سیاسی کاروائی کو لندن کانفرنس کی مدد حاصل

اجلاس میں شریک ہونے والے وزراء اور اقوام متحده کے سفیر کو ایک یادگار تصویر لینے کے دوران دیکھا جا سکتا ہے

قاہرہ: خالد محمود

        کل لندن کی دار الحکومت برطانیہ میں چھٹھے اجلاس کا انعقاد کیا گیا ہے جس کا مقصد لیبیا کی سیاسی کاروائی، اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انطونیو گوٹیرس اور لیبیا میں ان کے خاص ترجمان غسان سلامہ کی مدد کرنا ہے۔

        برطانیہ کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ وزارت کا چھٹھے اجلاس میں لیبیا کے اندر سیاسی جمود کی حالت کو ختم کرنے کے طریقوں پر غور وفکر کرنے اور اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری اور ان کے خاص ترجمان کی کوششوں کی مدد کرنے کا موقعہ ملے گا۔ برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن کی صدارت اور لیبیا میں اقوام متحدہ کے وفد کے سربراہ غسان سلامہ، امریکی وزیر خارجہ ٹیلسنسن،اطالوی وزیر خارجہ الجیلینو الفانو، مصری وزیر خارجہ سامح شکری، متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور ابن محمد فرفاش، سیاسی امور کے فرانسیسی ڈائریکٹر نیکولا ڈو ریویر کی موجودگی میں منعقدہ کانفرنس کے شروع ہونے سے پہلے ایک بیان میں کہا گیا کہ لیبیا میں استقرار واستحکام کے لئے کی جانے والی مدد کی وجہ سے دہشت گردی کے خطرہ اور غیر قانونی نقل مکانی کے مسئلہ کا مقابلہ کرنے والی برطانوی حکومت کی کوششوں میں ایک زندگی آجائے گی اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں ۔

جمعہ – 24 ذی الحجة 1438 ہجری – 15 ستمبر 2017ء  شمارہ نمبر: (14170(

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>