Main Site aawsat.com/urdu

ناریل کے پانی کی حقیقت - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 25 اگست, 2017
0

ناریل کے پانی کی حقیقت

ناریل کا پانی (سی این این)

واشنگٹن: "الشرق الاوسط"

        بہت سارے لوگ ناریل کے پانی کو زندگی کے پانی سے تعبیر کرتے ہیں اور ان کا مقصد اس پانی کے غیر معمولی فوائد بتانے کی کوشش ہوتی ہے۔ بعض لوگ اسی انداز اور تعریف کے ساتھ بازار میں ناریل کا پانی فروخت کرتے ہیں جبکہ دیگر افراد قہوہ اور جوس میں بھی اسے ملاتے ہیں۔

        لیکن کھانے پینے کی چیزوں کے ماہرین کا ایک دوسرا ہی نقطۂ نظر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ناریل کے پانی میں غذائی فائدے نہیں ہیں۔ سی این این ویب سائٹ کے مطابق دو تحقیق نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ناریل کا پانی جسم کے اندر تھوڑے فرق کے ساتھ رطوبت پیدا کرتا ہے اور ایسا پانی اور کھیلوں کے مشروبات کے ساتھ مقارنہ کرنے کے بعد ظاہر ہوا ہے۔ غذاؤوں کی ماہر خاتون لیزر ڈرائر کا نقطۂ نظر سابق تحقیق کے موافق ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے کہا ہے کہ ناریل کی تجارتی سمبل ویٹا کوکو نے ایک تحقیق نشر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج کمپنی کے فائدے کے لئے ہے۔

        اس پانی کی وجہ سے بعض لوگوں نے معدہ کے اندر بے چینی اور پھولن کا احساس کیا ہے لیکن ڈرائر نے واضح کیا ہے کہ منفی اثرات انفرادی وجہ سے ہو سکتے ہیں اور انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ابھی تک کوئی ایسی تحقیق سامنے نہیں آئی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ ناریل کا پانی عام پانے سے زیادہ مفید ہے۔

        حاملہ خواتین کو کھانے کے بدیل کے طور پر ناریل کے پانی ہر اعتماد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ڈارائر نے کہا ہے کہ یہ پانی لوہے کے مادہ، پروٹین، کیلشیم اور اومیگا 3 سے خالی ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں تیل اور فولیک ایسڈ نہیں ہوتا ہے۔ اگر ناریل کے پانی کے فوائد کا موازنہ دودھ سے کیا جائے تو ناریل کے پانی میں موجود کیلشیم سے چھ گنہ زیادہ کیلشیم دودھ میں ہوتا ہے اور اس کے علاوہ دودھ میں پروٹین بھی ہوتا ہے۔

        غذا کے ماہرین ناریل کے پانی پینے کی نصیحت نہیں کرتے ہیں کیونکہ یہ کھانے کے تحویل ہونے کی کاروائی میں کمی پیدا کرتا ہے اور ناریل کے پانی میں پانچ سے سات کیلوری حرارت ہوتی ہے اور ہر ونس میں ایک گرام شکر ہوتی ہے۔

        اسی طرح اگر اس کا کیلے سے موازنہ کیا جائے تو اس میں پوٹاشیم کا مادہ بہت زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے اور دل کی دھڑکنوں کی حفاظت میں اس کا مرکزی کردار ہوتا ہے اور کلیسٹرول اور اعضاء کو سکڑنے سے بچاتا ہے۔ اولڈت نے اشارہ کیا ہے کہ پوٹاشیم کی بڑی مقدار آلو، پھلیاں اور پالک میں پائی جاتی ہے۔ یہ بہت سستے بھی ہوتے ہیں اور اس سے انسان کے جسم کو بہت سارے غذائی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔

        اولڈت نے امریکہ کی دل ایسوسی ایشن کے ان نتائج کے ساتھ اتفاق کیا ہے جن میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر ناریل کے تیل کا موازنہ مکھن اور کھجور کے تیل سے کیا جائے تو ناریل کے پانی میں غیر مفید تیل کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے اور خراب کیسٹرول کے بیماروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے او اس کی وجہ دل کی بیماریاں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ اسی طرح اگر ناریل کے دودھ کا ناریل کے پانی سے موازنہ کیا جائے تو دودھ میں غیر مفید تیل اور کیلوری کی بڑی مقدار ہوتی ہے اور اس کے علاوہ پوٹاشیم کی مقدار کم ہوتی ہے لیکن یہ ان لوگوں کے بہتر ہے جنہیں ڈائجسٹک لیکٹوج کی شکایت ہے۔

        بہتر یہ ہے کہ لوگ وہ کھانا کھائیں جن میں مفید تیل کی مقدار ہوتی ہے جیسے کہ اواکوڈا اور زیتون کا تیل ہے اور وہ دل اور نسوں کی بیماریوں سے بچاتے ہوں۔

        قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہم ناریل کے پانی کو اپنے کھانے کے نظام میں شامل کر سکتے ہیں لیکن اس کا موازنہ عام پانی، میوے اور سبزیوں سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔

جمعرات – 11 ذی القعدة 1438 ہجری – 03 اگست 2017 ء

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>