Main Site aawsat.com/urdu

الباب کی گلیوں میں جنگ اور کرد "الاسد جھیل" کے قریب - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 7 جنوری, 2017
0

الباب کی گلیوں میں جنگ اور کرد "الاسد جھیل” کے قریب

اپوزیشن کا وادیٔ بردی میں جنگ بندی سے انکار – روس کا اپنی افواج میں کمی کا آغاز
1483726462385097700

فرانسیسی ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان حلب شہر کے قدیم علاقے کی جامع مسجد الاموی کا دورہ کرتے ہوئے (ا – ف – ب)

بیروت: نذیر رضا

       کل شامی اپوزیشن کے ایک بڑے عہدیدار نے "حزب اللہ” کی جانب سے وادیٔ بردی میں وقتی طور پر جنگ بندی کے سمجھوتے تک رسائی کے اعلان کی نفی کی ہے، جبکہ "اسد جھیل” کے کنارے "جمہوری شام” فورسز پر کرد غالب آ رہے ہیں۔

      "آزادیٔ شام تحریک” کی سیاسی ونگ کے سربراہ "منیر سیال” نے "رویٹرز” ایجنسی کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ "حزب اللہ” کے "جنگی میڈیا” کی طرف سے کیا گیا اعلان "جھوٹا بہتان” ہے۔ جس کے مطابق دمشق کے قریب وادیٔ بردی میں سمجھوتے تک رسائی ہو چکی ہے جبکہ وہاں شامی حکومتی افواج اور انکے اتحادی مسلح اپوزیشن سے لڑ رہے ہیں۔

      شامی حکومت کے قریبی اطلاعاتی ذرائع نے جرمن اخباری ایجنسی کو کہا کہ "روسی فوجی وفد وادیٔ بردی کے علاقے میں داخل ہوا اور علیحدگی پسند اپوزیشن کے رہنماؤں سے ملاقات کی ۔ اس دوران علاقے میں تمام مسلح افراد کے ساتھ چند گھنٹے کے لئے ایک عارضی جنگ بندی کا معاہدہ عمل میں لایا گیا”۔

      دریں اثناء واشنگٹن کی حمایت یافتہ "شامی ڈیموکریٹک افواج” نے دریائے فرات پر ڈیم کے قریب "جھیل اسد” کے کنارے واقع تاریخی قلعہ جعبر میں تنظیم داعش سے جھڑپوں کے بعد اس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

      اسی ضمن میں ترک وزیر دفاع "فکری اشیق” نے اعلان کیا ہے کہ "فرات کی ڈھال” نامی افواج کی طرف سے گھرے ہوئے شہر الباب کی سڑکوں پر جنگ جاری ہے۔

      دوسری جانب کل روس نے شام کے ساحلوں پر لنگر انداز اپنی بحریہ کی ایک بڑی تعداد کی واپسی کرتے ہوئے شام میں اپنے فوجی وجود میں کمی کا آغاز کردیا ہے۔

   

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>