Main Site aawsat.com/urdu

برلن اب بھی حملہ آور کی تلاش میں ہے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 21 دسمبر, 2016
0

برلن اب بھی حملہ آور کی تلاش میں ہے

%d8%a8%d8%b1%d9%84%d9%86

جرمن صدر جوواچم گک، چانسلر انجیلا مرکل اور اعلی حکام برلن کے ٹرک حادثہ میں ہلاک شدگان کے لئے کل منعقدہ ایک دعائی اجلاس میں شرکت کرتےہوئے

برلن: "الشرق الاوسط”

      برلن میں ہوئے ٹرک حادثہ میں ہلاک شدگان کی تعداد 12 افراد تک پہنچ چکی ہے جبکہ ٹرک ڈرائیور کی شناخت اب تک نامعلوم ہے۔

      جرمن سیکیورٹی حکام نے کہا کہ کرسمس مارکیٹ میں حملہ کرنے والا شخص اب بھی آزاد ہے اور وہ ہتھیار سے مسلح بھی ہو سکتا ہے۔

      حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جس پناہ گزین کو موقعۂ واردات سے گرفتار کیا گیا ہے وہی حملہ آور ہے۔

      برلن پولیس کے سربراہ کو"لاؤس کانٹ”  نے کہا کہ پولیس کو یقین نہیں ہے کہ گرفتار شدہ پاکستانی پناہ گزیں شخص ہی اس حادثہ کا حقیقی ذمہ دار ہے چنانچہ کل اسے تھوڑی دیر کے بعد رہا کر دیا گیا۔

      اس کے جواب میں جرمنی میں انسداد جرائم کمیٹی کے سربراہ "ہولگر مونش” نے اس بات کا اظہار کیا کہ یہ کوئی بعید نہیں ہے کہ اس حادثہ میں کوئی اور شخص شریک ہے جو فرار ہو گیا۔

      مونش نے کہا کہ اس حملہ میں شریک ہونے والے کی شناخت کے امکان کے لئے سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ کیا انہوں نے صحیح شخص کو گرفتار کیا ہے یا کسی اور شخص کو۔

      پولیس نے اپنے "ٹوئٹر” اکاؤنٹ پر اعلان کیا ہے کہ زیر حراست ملزم نے حملہ میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>