Main Site aawsat.com/urdu

کرک میں ایک اور حملہ اور داعش نے قلعہ حادثہ کی ذمہ داری قبول کی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 21 دسمبر, 2016
0

کرک میں ایک اور حملہ اور داعش نے قلعہ حادثہ کی ذمہ داری قبول کی

%da%a9%d8%b1%da%a9

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے درک فوج کے جنرل ڈائریکٹوریٹ کا دورہ کرتے ہوئے

عمان: محمد الدعمہ

      کل عمان سے 140 کلومیٹر کی دوری پر واقع کرک نامی گورنریٹ کے شمال میں "الوسیہ” کے علاقہ میں  مسلح افراد کے ساتھ جھڑپوں میں اردن کے درک فوج اور پبلک سیکورٹی فورسز کے چار افراد ہلاک ہو ئے جبکہ دیگر افراد کے زخمی ہونے کی بھی  اطلاع ہے۔

      یہ حادثہ اس وقت ہوا جب تنظیم داعش نے گزشتہ اتوار کو کرک کے قلعہ میں ہوئے حادثہ کی ذمہ داری قبول کرلی جس میں سات سیکورٹی اہلکار، دو عام شہری اور ایک کینیڈین خاتون سیاح  کے ہلاک ہو نے کی خبر تھی  جبکہ ان کے علاوہ چار حملہ آور بھی ہلاک ہوئے تھے۔

       باخبر ذرائع نے "الشرق الاوسط” سے گفتگو کے دوران بتایا کہ کل  سیکیورٹی اور درک کے مشترکہ فورسز کی طرف سے دو مطلوبہ شخصوں کے گھروں  پر چھاپہ مار کاروائی کے دوران جھڑپیں شروع ہو گئیں جبکہ اس سے قبل دو شخص کو گرفتار کر لیا گیا  اور فائرنگ کے دوران  دو فرار  ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

       باخبر ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران سیکیورٹی اور درک فوج کے چار اہلکار ہلاک ہوئے اور ایک شخص زخمی ہوا ہے۔

       ذرائع نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ فوج کے اسپیشل فورسز  نے صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لئے درک فوجوں کا تعاون کیا اور یاد رہے کہ ان مطلوبہ شخصوں کا ارادہ وہی تھا جو  کرک پر حملہ آوروں کا تھا۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>