Main Site aawsat.com/urdu

تھیچر برطانیہ میں سب سے زیادہ با اثر عورتوں کی لسٹ میں سرفہرست - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 15 دسمبر, 2016
0

تھیچر برطانیہ میں سب سے زیادہ با اثر عورتوں کی لسٹ میں سرفہرست

%d8%b9%d9%88%d8%b1%d8%aa

2004 میں بیرونس تھیچر بکنگھم محل کی استقبالیہ تقریب میں

لندن: "الشرق الاوسط”

      سابق برطانوی خاتون وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر ماضی کی ستر سالہ مدت میں برطانیہ میں سب سے زیادہ با اثر عورتوں کی لسٹ مین سرفہرست ہیں۔ یہ فہرست "wemen hour” نامی اس پروگرام  کے مطابق ہے جس کا آغاز BBC ریڈیو کے چوتھے اسٹیشن نے کیا تھا اور اسی پروگرام نے اس فہرست کو تیار کیا اور اس کا اعلان بھی کیا۔

      ججوں کی کمیٹی کی خاتون صدر نے تھیچر کے انتخاب کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں میں برطانیہ کے اندر خواتین پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی عورت بیرونس تھیچر ہیں اور اب ان   کے علاوہ  کسی اور کے بارے میں سوچنا مشکل ہے۔

      "wemen hour” نامی پروگرام  نے کل فہرست اور اس کے اراکین  کے سلسلہ میں ہوئی گفتگو کو نقل کیا ہے اور اسی طرح اس انتخاب کی خصوصیات کو بھی بیان کیا ہے جن کی وجہ سے ہر شخصیت کو کامیابی ملی اور خواتین پر اثر انداز ہوئيں۔

      دلچسپ بات یہ ہے کہ ججوں کی کمیٹی کی طرف سے اختیار کردہ شخصیات میں ملکہ الزبتھ دوم یا وزیر اعظم ٹریزا مائی جیسی ممتاز شخصیات شامل نہیں ہیں لیکن اس انتخاب میں مصنف ہیلن فیلڈنگ کی ناول "بریڈجیٹ جونز کی ڈائری” کی ہیروئین بریجیت جونز (1996) کی طرح خیالی شخصیات شامل ہیں۔ اس ناول میں "متکبر شوہروں” کے درمیان میں ایک غیر شادی شدہ عورت کی زندگی کو دکھایا گیا ہے ۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>