Main Site aawsat.com/urdu

24 سال پارليمنٹ كى صدارت ميں .. اور كوئى متبادل نہيں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

24 سال پارليمنٹ كى صدارت ميں .. اور كوئى متبادل نہيں

نبيہ بري.. لبنانى سياسى كهيل كا با اثر آفیسر

8-2

بیروت: ثائر عباس

        لبنان میں نظریں اس وقت قومی اسمبلی کے اسپیکر نبیہ بری پر مرکوز ہیں، کیونکہ وہ صدر جمہوریہ تک پہنچنے کے لئے (تبدیلی اور اصلاح) دھڑے کے صدر عماد میچل کے نمایاں حریف شمار ہوتے ہیں، لیکن بری اس بات کی تاکید کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس چینل میں اکیلے نہیں ہیں، ایسے ڈھیروں ہیں جن سے سابق صدر سعد حریری نے اپنے گزشتہ دورے کے دوران ملاقات کی تھی جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ حریری کی جانب سے عون کی صدارت کے لئے پیشگی تائید ہے ۔

بری کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ لبنان میں سیاسی توازن کے کھیل میں سب سے زیادہ ماہر شمار کیا جاتا ہے، اس نے شامی حالت زار سے پہلے کہا تھا کہ لبنان کے کسی بھی بحران کا حل (س س) کے ذریعے آئے گا، اس سے مراد سعودی عرب اور سیریا (شام) ہیں۔ عون کے مخالف سیاستدان بہت ہیں ، البتہ وہ اس کا اعلانیہ اظہار نہیں کرتے۔ لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کے لئے شاعر متنبی کے مشہور قول کا دوسرا حصہ صادق آتا ہے: (تو ہی مخالف اور تو ہی ثالث ہے- مراد يہ ہے كہ تم ہى حريف ہو اور منصف بهى ہو)۔

بری 1992ء سے پارلیمنٹ کا اسپیکر ہونے کی وجہ سے دنیا میں پارلیمنٹس کے اسپیکرز کا سرخیل شمار ہوتے ہیں، انہوں نے کبھی بھی لبنانی سطح پر اپنے مقام کے لئے کوئی سنجیدہ مد مقابل نہیں دیکھا، اپنی شخصیت سے استفادہ کرتے ہوئے جو اپنے حریف کے ساتھـ معاویہ کے بال اور حلیف کے ساتھـ پرامن مسافت پر رہے۔

 2005ء میں سابق وزیراعظم رفیق الحریری کے قتل کے بعد لبنانی بحران کے فریقین کے لئے ضرورت بن چکے ہیں، اس وقت سے وہ ملکی نظام پر ایسے اثر انداز ہیں کہ وہ بغیر گرے کھائی کے کنارے پر ہے۔ بری کے اکثر حریفوں کی رائے یہ ہے کہ ملک کے عدم سقوط میں ان کا بنیادی رول ہے۔

ب     ری نے ڈھیروں لقب حاصل کئے، ان میں مشہور (جادو گر) ہے، جب بھی معاملات دیگرگوں ہو جائیں، حل کی خاطر قومی اسمبلی کا اسپیکر اپنی بغل سے خرگوش نکالنے کے لئے تیار ہوتا ہے، اگرچہ بعض سیاستدان یہ کہتے رہیں کہ یہ غیر آئینی ہے۔ مثال کے طور پر آئین یہ واجب کرتا ہے کہ مہلت کے ختم ہونے پر کسی سرکاری اہلکار کو صدر جمہوریہ کے منصب کے لئے منتخب کیا جائے۔

آئین میں ترمیم کے بغیر 2008ء میں عماد میچل سلیمان کو صدر جمہوریہ کے انتخاب کی خاطر قومی اسمبلی کے اراکین کے لئے راہ آسان کرنا، جو بحران سے نکلنے کا نیم آئینی راستہ تھا۔

علاوہ ازیں بری نے 2006ء میں قانون ساز کی ناراضگی دور کرنے اور قانون سازوں کے مابین ٹکراؤ روکنے کے لئے ٹیبل ٹاک کا خرگوش نکالا۔ ان کے مقربین کہتے کہ (بیشک مکالمہ اور لبنانیوں کی وحدت اور اس کے گرد رکاوٹ جس نے اسرائیل کو اسی سال لبنان پر جنگ میں کامیابی سے روکے رکھا۔

اسی طرح 2009‎ء میں وزیر اعظم نجیب میقاتی کی حکومت تشکیل دینے کی خاطر تیسرا خرگوش نکالا، حکومت کی تشکیل کی خاطر سنی وزیر کے لئے شیعہ وزیر کو اپنے حصے سے دستبردار ہونے پر راضی کرنا، یہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ دونوں فرقوں کے وزراء برابر نہیں تھے جیسا کہ دستور میں درج ہے۔

جہاں تک پارلیمنٹیرین عماد میچل عون کی صدارت کے لئے نامزدگی کا تعلق ہے تو ہم اس جانب اشارہ ضروری سمجھتے ہیں کہ بری کے عون کے ساتھ تعلقات کبھی بھی مثالی نہیں رہے، یہ کبھی بھی (حلیف) کے درجے تک نہیں پہنچے لیکن بری عون کے لئے (میرے حلیف کا حلیف) کی عبارت استعمال کرنا بہتر سمجھتے ہیں یعنی (حزب اللہ) جس کے بری اور عون کے ساتھـ تعلقات اچھے ہیں، دونوں کے مابین نفرت کے ڈھیروں اسباب پاۓ جاتے ہیں، علاوہ ازیں دونوں میں (کیمیاء) کا بھی فقدان ہے- يا دونوں كى الگ الگ شخصيتيں ہيں-

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

متعلقہ عنوانات‬:, , ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>